Select Menu

For English Language

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

فرانزک تحقیقات جرائم کے کیسز کو حل کرنے میں کتنی مددگار؟

 

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے کوئی بھی ایسا جرم سرزد ہو جس کی تحقیقات کی وسیع پیمانے پر ضرورت ہو تو حکومت یا تحقیقاتی اداروں کی جانب سے فرانزک تحقیقات کی تجویز سامنے آتی ہے۔
جج ارشد ملک کی آڈیو، ویڈیو کا معاملہ ہو یا عثمان مرزا کیس کی ویڈیو، زینب قتل کیس ہو یا پھر موٹروے ریپ کیس، یہاں تک کہ شوگر تحقیقات جیسے وائٹ کالر معاملات کی تحقیقات کے لیے بھی فرانزک تحقیقات کرائی گئی ہیں۔
یہ فرانزک تحقیقات کیسے ہوتی ہیں، پاکستان میں اس حوالے سے کیا سہولیات موجود ہیں اور ان سے کسی بھی کیس کو حل کرنے میں کتنی مدد ملتی ہے؟

فرانزک تحقیقات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق فرانزک تحقیقات قانونی نظام میں کسی بھی معاملے کی وسیع تر تحقیقات اور سوالات کے جوابات تلاش کرنے کا ایک سائنسی ٹول ہے۔
فرانزک سائنس ایکسپرٹ دانش بشیر منگی کے مطابق ’فرانزک تحقیقات کے ذریعے کسی بھی جرم یا واقعے کو سائنسی طریقے اور اصولوں کے ذریعے شواہد ثابت کرنے، جرم کے طریقہ کار اور جسمانی شناخت میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ یعنی پولیس یا تحقیقاتی ایجنسی ملنے والے شواہد سے متعلق جن سوالات کے جواب جاننا چاہتی ہے فرانزک کے ذریعے وہ تلاش کیے جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’فرانزک تحقیقات کا آغاز کرائم سین سے ہی کیا جاتا ہے تاہم پاکستان میں کرائم سین انویسٹی گیشن پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ بہت ضروری ہے کہ موقع واردات سے کسی قسم کا کوئی ثبوت ضائع نہ ہونے پائے۔‘
دانش بشیر منگی کا کہنا ہے کہ ’فرانزک تحقیقات کے نتائج کی کامیابی کا انحصار بھی پولیس کی جانب سے موقع واردات سے جمع کیے گئے شواہد پر ہی ہوتا ہے۔ اگر اس میں فرانزک پروٹوکول کا خیال رکھا جائے تو فرانزک تحقیقات انصاف کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق عدالتیں بھی اس بات پر زور دیتی ہیں کہ فرانزک تحقیقات کو فروغ دیا جائے۔ 

فرانزک ایکسپرٹ صائمہ بتول نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’فرانزک تحقیقات دراصل کسی جرم کے طبعی شواہد کا سائنسی جائزے کا نام ہے۔ جیسے ڈی این اے، خون کے نمونہ جات، فنگر پرنٹس اور دیگر انسانی اعضا کا سائنسی مشاہدہ فرانزک تحقیقات میں شمار ہوتے ہیں۔‘

فرانزک تحقیقات کیوں ضروری ہیں؟

پاکستان میں عموماً یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ پولیس ملزموں کو گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کرتی ہے لیکن عدالتیں انھیں عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ ایک تو پولیس مقدمے کے ثبوتوں کو خراب کر دیتی ہے یا پھر عدالتوں میں جھوٹے گواہ پیش ہو جاتے ہیں جو ملزمان کو بچانے کے باعث بنتے ہیں۔ اسی وجہ سے عدالتیں بھی اس بات پر زور دیتی ہیں کہ فرانزک تحقیقات کو فروغ دیا جائے۔  
پاکستان کے سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہ خاور نے اس حوالے سے اردو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ’پہلے ایک روایتی تفتیش کا طریقہ کار ہوتا تھا جو اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ اب جدید اور سائنسی طریقے سے ثبوت اکٹھے کیے جاتے ہیں یا جمع شدہ ثبوتوں کا فرانزک کروایا جاتا ہے جو بعد میں مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنا کر عدالتوں میں پیش کیے جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اگر کسی ویڈیو میں ایک فرد جرم کرتا ہوا نظر آتا ہے اور تحقیقات کے دوران وہ یہ کہہ دے کہ ویڈیو میں وہ موجود نہیں بلکہ ویڈیو ایڈٹ کی گئی ہے تو فرانزک تحقیقات کے ذریعے چیک کیا جا سکتا ہے کہ ویڈیو کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے یا نہیں۔‘
شاہ خاور نے بتایا کہ ’حال ہی میں عثمان مرزا کیس جس میں ملزمان کی جانب سے لڑکی اور لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اب نور مقدم قتل کیس میں بھی ویڈیو کا فرانزک ٹیسٹ کرایا گیا ہے۔‘

سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہ خاور نے بتایا کہ ’اب جمع شدہ ثبوتوں کا فرانزک کروایا جاتا ہے جو بعد میں مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنا کر عدالتوں میں پیش کیے جاتے ہیں‘ 

شاہ خاور کے مطابق ’صرف یہی نہیں بلکہ فرانزک تحقیقات کے ذریعے پولی گرافک ٹیسٹ کے ذریعے ملزم کی نبض کی رفتار، دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور دیگر جسمانی حرکات کے ذریعے ماہرین اس کے سچے یا جھوٹے ہونے کا تجزیہ سائنسی بنیادوں پر کر سکتے ہیں اور عدالتیں اسے تسلیم بھی کرتی ہیں۔‘
صائمہ بتول کے مطابق ’روایتی طریقہ کار میں مضروب کا میڈیکو لیگل کروایا جاتا تھا جبکہ جدید تفتیش میں میڈیکو لیگل نہیں بلکہ فرانزک کروایا جاتا ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ فوری انصاف فراہم کیا جا سکے اور شواہد ضائع ہونے کا کوئی امکان نہ ہو۔‘

پاکستان میں فرانزک تحقیقات کی دستیاب سہولیات

پاکستان میں اس فرانزک تحقیقات کے دو بڑے ادارے موجود ہیں جن میں ایک نیشنل فرانزک سائنس ایجنسی ہے جس کے تحت مختلف لیبارٹریز ہیں جبکہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی دوسرا ادارہ ہے۔
وفاق کی سطح پر نیشنل فرانزک سائنس ایجنسی کا قیام 2002 میں عمل لایا گیا۔ جس کی مختلف لیبارٹریز تحقیقات کے لیے استعمال ہوتی ہیں جن میں ڈی این اے، فائر آرمز، فنگر پرنٹس، دھماکہ خیز مواد اور کرائم سین انویسٹی گیشن کی سہولیات موجود ہیں۔
دوسری جانب پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اس شعبے میں سب سے جدید ہے جو نہ صرف صوبے بلکہ وفاق اور دیگر صوبوں کو بھی خدمات فراہم کر رہی ہے۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں مختلف قسم کی فرانزک کی سہولیات موجود ہیں۔ (فوٹو: فیس بک پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی)

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں آڈیو ویڈیو تجزیہ، فرانزک فوٹو گرافی، کمپیوٹر فرانزک، ڈی این اے اور سیرالوجی، پتھالوجی، فنگر پرنٹ، منشیات اور ٹریس کیمسٹری کے فرانزک کی سہولیات موجود ہیں۔
سانحہ مستونگ، زینب قتل کیس، موٹرے وے ریپ کیس، عزیز الرحمان کیس، اومنی گروپ سکینڈل، اجمل وزیر آڈیو سکینڈل، ڈہرکی ٹرین حادثے سمیت متعدد واقعات کی فرانزک تحقیقات کروائی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں پولیس کی فرانزک سائنس لیبارٹری اور کراچی یونیورسٹی میں سندھ کی فرانزک سائنس لیبارٹری نے بھی کام شروع کر دیا ہے۔
لیکن ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا لیبارٹری میں ڈی این اے اور سیرالوجی کے علاوہ انوسٹی گیشن کی ابتدائی سہولیات ہی دستیاب ہیں جبکہ سندھ کی لیبارٹری میں صرف ڈی این اے کی سہولت موجود ہے۔
فرانزک ایکسپرٹ صائمہ بتول کے مطابق ’تمام لیبارٹریز سرکاری ہیں جبکہ پرائیویٹ لیبارٹریز میں فرانزک کی سہولت موجود نہیں ہے۔ جو فرانزک سہولیات دستیاب ہیں وہاں پر تربیت یافتہ افراد نہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہیں ہو پا رہا۔ اس کے لیے سب سے پہلے فرانزک ماہرین کی بھرتی کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کو جدید خطوط پر تربیت دینا ہوگی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فرانزک تحقیقات کو پولیس اہلکاروں کے اعصاب پر سوار کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کو تربیت دے بھی دی جائے تو وہ سائنسی اصولوں اور فرانزک پروٹوکولز کو فالو نہیں کر سکتے۔ اس لیے پولیس میں بھی فرانزک ماہرین کی بھرتی لازمی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے قانون شہادت میں بھی بہتری لانے کی ضرورت ہے جو فرانزک تحقیقات کو عدالت نظام میں مکمل قابل قبول بنائے۔‘

افغانستان: طالبان کے علاج کا شبہ، افغان فضائیہ کی ہسپتال پر بمباری

 

افغانستان میں ایک نجی ہسپتال کے مالک نے کہا ہے کہ ’افغانستان کی فضائیہ نے سنیچر کے روز ان کے ہسپتال پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔‘
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق 20 بستروں پر مشتمل افغان آریانا ہسپتال کے مالک ڈاکٹر محمد دین ناریوال کا کہنا ہے کہ ’حملہ اس شبے میں کیا گیا کہ یہاں طالبان جنگجوؤں کا علاج ہورہا تھا۔‘

ڈاکٹر محمد دین ناریوال نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صوبائی حکومت کے حکام نے بتایا کہ ’لشکر گاہ میں ان کے ہسپتال کو وزارت دفاع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہسپتال میں کوئی طالبان نہیں تھا۔‘ اس حوالے سے اے پی نے متعدد مرتبہ افغان وزارت دفاع سے موقف معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا تاہم وزارت نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔‘
ڈاکٹر محمد دین ناریوال کے مطابق ’انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ غلطی سے ہوا کیونکہ انہیں یہ غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں کہ ہسپتال میں طالبان موجود ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’دراصل طالبان شہر کے ایک دوسرے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔‘
صوبائی کونسل کے سربراہ عطا اللہ افغان نے تصدیق کی ہے کہ ‘افغان فضائیہ نے ہسپتال پر حملہ کیا ہے جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔‘

ترجمان طالبان کے مطابق ’لشکر گاہ کے نجی ہسپتال پر حملے میں انڈین جہاز استعمال کیے گئے

دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان فضائیہ کی جانب سے ہسپتال پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’لشکر گاہ کے نجی ہسپتال پر حملے میں انڈین جہاز استعمال کیے گئے، جس سے طبی مرکز کا بڑا حصہ آگ لگنے سے تباہ ہوگیا ہے۔‘
اس ہسپتال پر حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب طالبان جنوب مغربی شہر لشکرگاہ کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں اور اس دوران ان کی افغان فورسز کے ساتھ شدید لڑائی جاری ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ’علاقے میں افغان جنگجوؤں اور افغان فورسز کے درمیان دوبدو لڑائی ہورہی ہے۔‘

کورونا سے متاثرہ ملک گئے یا نہیں، معلومات چھپانے پر پانچ لاکھ ریال تک جرمانہ

 

سعودی عرب میں پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ ’مملکت آنے والے مسافروں کو یہ بتانا ہوگا کہ آیا وہ کورونا وبا سے متاثرہ کسی ملک یا وائرس کی کسی نئی شکل سے متاثرہ ملک گئے ہیں یا نہیں‘۔  
’سعودی عرب بین الاقوامی پروازوں سے آنے والوں، فضائی کمپنیوں، بحری جہازوں اور گاڑیوں کے ذمہ داران اور آپریٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ مملکت آمد پر یہ بتائیں کہ آیا وہ کورونا وبا سے متاثرہ کسی ملک یا وائرس کی کسی نئی شکل سے متاثرہ ملک گئے ہیں یا نہیں‘۔  
عاجل ویب سائٹ کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے بیان میں خبردار کیا ہے کہ’ جان بوجھ کر یہ بات چھپانے پر پانچ لاکھ  ریال تک کا جرمانہ ہوگا‘۔ 

مسافروں کو بتانا ہوگا کہ آیا وہ کورونا وبا سے متاثرہ کسی ملک  گئے ہیں یا نہیں

پبلک پراسیکیوشن نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ’جو شخص وبا سے متاثرہ ملک یا کورونا وائرس کی نئی قسم سے متاثرہ ملک جانے کی بابت معلومات چھپائے گا اس پر پانچ لاکھ ریال تک کا جرمانہ ہوگا‘۔
بیان کے مطابق’ اگر کسی اور قانون کے تحت اس پر کوئی اور سزا ہوگی تو وہ سزا بھی اسے دی جائے گی‘۔ 
پبلک پراسیکیوشن نے مزید کہا کہ ’معلومات چھپانے والا شخص یا ہوائی جہاز یا بحری جہاز یا ٹرانسپورٹ چلانے والی کمپنی یا ادارہ وہ تمام نقصانات برداشت کریں گے جو اس خلاف ورزی کی صورت میں ہوں گے‘۔

موسم کی صورتحال: کئی علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان، سیلاب کا خطرہ

 

سعودی عرب میں موسمیات کے قومی مرکز نے پیر 2 اگست سے متعلق مملکت بھر میں موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے پیشگوئی جاری کی ہے۔
اخبار  24 کے مطابق قومی مرکز کا کہنا ہے کہ ’پیر کو بھی جازان، عسیر اور باحہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ گرد آلود ہوائیں چلیں گی اور ژالہ باری ہوگی بارش کے باعث سیلاب بھی آسکتا ہے‘۔

قومی مرکز کا کہنا ہے کہ ’ نجران کے پہاڑی علاقوں اور مکہ مکرمہ کے بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان جبکہ گرد آلود ہواؤں سے مکہ مکرمہ ریجن اور جنوب مغربی علاقوں کے بالائی مقامات میں حد نظر محدود ہوجائے گی‘۔
’غبار آلود ہواؤں کا سلسلہ نجران تک پھیل جائے گا جبکہ ریاض ریجن کے جنوبی مقامات اور بحیرہ احمر کا جنوبی ساحل بھی گرد آلود ہواؤں کی لپیٹ میں ہوگا‘۔ 
بیان میں قومی مرکز کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ درجہ حرارت 46 سینٹی گریڈ دمام اور حفر الباطن میں ہوگا جبکہ سب سے کم درجہ حرارت 16 سینٹی گریڈ السودۃ میں متوقع ہے‘۔ 
علاوہ ازیں محکمہ شہری دفاع نے شہریوں اور مقیم غیرملکیوں سے اپیل کی کہ وہ اتوار سے جمعرات تک جازان، عسیر، نجران، باحہ اور مکہ مکرمہ میں تمام احتیاطی تدابیر کی پابندی کریں۔

ایسے تمام مقامات سے دور رہیں جہاں سے سیلاب گزرتا ہے

ان پانچوں علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش اور پھر سیلاب کے خطرات ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق محکمہ شہری دفاع نے بیان میں موسمیات کے قومی مرکز کے حوالے سے بتایا کہ’ پیر سے جمعرات تک مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، تبوک اور حائل میں اوسط درجے کی بارش کا امکان ہے‘۔
محکمہ شہری دفاع نے ہدایت کی ہے کہ’ وہ غیر مستحکم موسم کے دوران احتیاط برتیں اور ایسے تمام مقامات سے دور رہیں جہاں سے سیلاب گزرتا ہے۔ مختلف ذرائع ابلاغ کے توسط سے سلامتی کے لیے جاری کی جانے والی ہدایات کی خاص طور پر پابندی کریں‘۔

کویت نے ویکسین لگوانے والے غیرملکیوں کے لیے دروازے کھول دیے

 

کویت نے کابینہ کے فیصلے کے مطابق اتوار یکم اگست سے ویکسین لگوانے والے غیرملکی مسافروں کا خیر مقدم شروع کر دیا ہے۔
عاجل ویب سائٹ کے مطابق کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتوار کو عرب ممالک سمیت بیرون ملک سے کویت میں مقیم غیرملکی پہنچے ہیں۔ 

یاد رہے کہ کویتی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ ملک میں مقیم غیرملکیوں کو ویکسین اور مقررہ شرائط و ضوابط کے مطابق واپس آنے کا موقع دیا جائے گا۔
کویتی کابینہ نے پابندی لگائی ہے کہ وہی غیرملکی کویت واپس آ سکتے ہیں جو کویت میں منظور شدہ ویکسینوں میں سے کسی ایک کی دو خوراک لے چکے ہوں۔
کویت فائزر، ایسٹرازینکا آکسفورڈ اور موڈرنا ویکسینوں کی منظوری دیے ہوئے ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی دو خوراکیں حاصل کرنے والے غیرملکی کویت واپس آ سکتے ہیں جبکہ جانسن اینڈ جانسن کی ایک خوراک لینے والوں کو واپسی کی اجازت ہوگی۔ 
کویتی کابینہ غیرملکیوں کی کویت واپسی کے حوالے سے ایک اور شرط یہ لگائے ہوئے ہے کہ کویت کا سفر شروع کرنے سے 72 گھنٹے قبل پی سی آر ٹیسٹ کرائیں اور ٹیسٹ کی رپورٹ منفی ہو۔
دوسری شرط یہ ہے کہ کویت آنے والے غیرملکیوں میں نزلہ، زکام، کھانسی، ٹمپریچر جیسی کوئی علامت نظر نہ آ رہی ہو۔ 
کویتی کابینہ نے یہ بھی  شرط عائد کی ہے کہ کویت پہنچنے والے غیر ملکیوں کا 7 ویں دن ہاؤس آئسولیشن کے دوران پی سی آر کا دوسرا ٹیسٹ ہوگا۔

’کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت سے روکنے کے لیے انڈین بورڈ نے دھمکی دی‘

 

جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹر ہرشل گبز نے کہا ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اپنے سیاسی ایجنڈے کے باعث ان کو کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنے سے روکا جا رہا ہے۔
سنیچر کو ایک ٹویٹ میں ہرشل گبز کا کہنا تھا کہ انڈین کرکٹ بورڈ کا یہ اقدام مکمل طور پر غیر ضروری ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’مجھے یہ کہہ کر دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اس کے بعد وہ انڈیا میں کرکٹ سے متعلق کسی بھی کام کے لیے داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
ہرشل گبز نے اس صورتحال کو مضحکہ خیز قرار دیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ہرشل گبز کی ٹویٹ کو ریٹویٹ کر کے تبصرہ کیا کہ انڈٰیا کی جانب سے کرکٹ کو سیاست زدہ کرنے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
ترجمان نے لکھا کہ ’کرکٹ کے بڑے ناموں کے ساتھ کشمیر کے نوجوان کھلاڑیوں کو ڈریسنگ رومز شیئر کرنے کے موقعے سے محروم کرنا بدقسمتی اور افسوسناک ہے۔‘
خیال رہے کہ جمعے کو کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے صدر عارف ملک کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’کشمیر پریمیئر لیگ کے مظفرآباد میں انعقاد پر انڈیا رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔‘
کرکٹ میلے کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کا آغاز 6 اگست سے مظفرآباد کرکٹ سٹیڈیم میں ہو رہا ہے جو 17 اگست تک جاری رہے گا۔ اس لیگ میں کُل چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

جمعے کو جاری بیان کے مطابق کے پی ایل کے صدر نے کہا کہ ’انگلش اور افریقی کھلاڑیوں کو روکے جانے پر لیگ نے باقی غیر ملکی کھلاڑیوں سے خود معذرت کر لی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر پریمیئر لیگ نے غیر ملکی کھلاڑیوں کی جگہ مزید مقامی کھلاڑیوں کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔