افغانستان میں ایک نجی ہسپتال کے مالک نے کہا ہے کہ ’افغانستان کی فضائیہ نے سنیچر کے روز ان کے ہسپتال پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔‘
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق 20 بستروں پر مشتمل افغان آریانا ہسپتال کے مالک ڈاکٹر محمد دین ناریوال کا کہنا ہے کہ ’حملہ اس شبے میں کیا گیا کہ یہاں طالبان جنگجوؤں کا علاج ہورہا تھا۔‘
ڈاکٹر محمد دین ناریوال نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں صوبائی حکومت کے حکام نے بتایا کہ ’لشکر گاہ میں ان کے ہسپتال کو وزارت دفاع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہسپتال میں کوئی طالبان نہیں تھا۔‘ اس حوالے سے اے پی نے متعدد مرتبہ افغان وزارت دفاع سے موقف معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا تاہم وزارت نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔‘
ڈاکٹر محمد دین ناریوال کے مطابق ’انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ غلطی سے ہوا کیونکہ انہیں یہ غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں کہ ہسپتال میں طالبان موجود ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’دراصل طالبان شہر کے ایک دوسرے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔‘
صوبائی کونسل کے سربراہ عطا اللہ افغان نے تصدیق کی ہے کہ ‘افغان فضائیہ نے ہسپتال پر حملہ کیا ہے جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔‘


کوئی تبصرے نہیں: