Select Menu

For English Language

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

ملک میں کورونا سے مزید 40 اموات، 4858 نئے کیسز بھی رپورٹ

 

پاکستان میں عالمی وبا کورونا سے مزید 40 افراد انتقال کر گئے اور 4858 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 56 ہزار 414 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 4858 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ وائرس سے 40 افراد انتقال کر گئے۔

سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 8.61 فیصد رکاری پورٹل کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 23 ہزار 462 ہو گئی اور مجموعی کیسز 10 لاکھ 39 ہزار 965 تک جاپہنچے ہیں۔

اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 1316 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 9 لاکھ 43 ہزار 20 ہو گئی ہے جب کہ فعال کیسز کی تعداد 73213 ہے۔


لاک ڈاؤن کا اعلان: ’تین کروڑ سے زائد آبادی کا شہر مکمل بند کرنا ظلم

 



کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا ویریئنٹ کے بڑھتے ہوئے کیسے کے پیش نظر سندھ حکومت نے 31 جولائی سے 8 اگست تک لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اطلاع سامنے آنے کے بعد جہاں ایک حلقے نے وبا روکنے کے لیے اس اقدام کی تائید کی وہیں بہت سے صارفین اسے پہلے سے مشکلات کا شکار سندھ کے مکینوں کے لیے مزید مشکلات کا پیش خیمہ قرار دیتے رہے۔
لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ جمعے کو سندھ ٹاسک فورس کے اجلاس میں کیا گیا جس کے بعد وزیراعلٰی سندھ نے دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں حکومتی فیصلے کی وجوہات اور تفصیل بھی بتائی۔ہ
وزیراعلٰی سندھ کی پریس کانفرنس سے قبل ہی ’لاک ڈاؤن‘ ٹوئٹر کے ٹرینڈز لسٹ میں شامل ہوئے تو اس میں گفتگو کرنے والوں کی خاصی بڑی تعداد لاک ڈاؤن کے اثرات سے متعلق خدشات کا شکار دکھائی دی۔
کچھ صارفین نے اسے صوبائی حکومت کی ناکام پالیسیوں سے تعبیر کیا تو گذشتہ لاک ڈاؤنز کے موثر ہونے یا نہ ہونے پر بھی تبصرہ کیا۔
ایسے ہی ایک صارف نے لکھا کہ ’سندھ حکومت کی ناکام پالیسیوں کا خمیازہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بھتوں اور پیداگیری کے چکر میں پچھلے ایک سال سے سندھ میں ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی گئیں، اور اب بھی اس 9 دن کے لاک ڈاؤن میں اپنے من پسند لوگوں کو کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔‘

کچھ صارفین لاک ڈاؤن کے فیصلے سے متفق رہے تو اسے وبائی صورت حال میں ناگزیر اقدام قرار دیا۔ عمار فیاض نامی ہینڈل نے لکھا کہ ’میں حکومت سندھ کے صوبہ بھر میں لاک ڈاؤن لگانے کے فیصلہ پر متفق ہوں۔ براہ مہربانی ویکسین لگوائیں اور محفوظ رہیں۔‘

لاک ڈاؤن نسے پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج لکھتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کی جانب سے کراچی میں لاک ڈاؤن کی مخالفت کی گئی ہے۔‘
’اس ضمن میں سندھ حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کوئی صداقت نہیں کہ اس فیصلے میں پی ٹی آئی شامل ہے۔ پیپلز پارٹی لاک ڈاؤن کی آڑ میں کراچی کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ لاک ڈاؤن سے صرف ان کی جیبیں گرم ہوں گی۔‘

لاک ڈاؤن سے متعلق کی گئی پریس کانفرنس میں بھی وزیراعلٰی سندھ کا کہنا تھا کہ ‘این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کو معاملے سے آگاہ کیا ہے اور انہوں نے تعاون کا یقین دلایا ہے۔‘
تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے کی گئی ٹویٹ نے لاک ڈاؤن کے فیصلے سے پی ٹی آئی حکومت کے مکمل اتفاق کے تاثر کی نفی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، وزیراعظم کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ہم ہر ایسے اقدام کے خلاف ہوں گے جس سے عام آدمی کی معیشت شدید متاثر ہو‘۔

صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان لاک ڈاؤن کے فیصلے پر اتفاق ہونے کا معاملہ کسی کروٹ نہیں بیٹھا تھا کہ اسی دوران دیگر سیاسی جماعتوں اور کراچی کی تاجر برادری کی جانب سے بھی فیصلے کی مخالفت کی گئی۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر انجینئر نعیم الرحمان نے ’تین کروڑ سے زائد آبادی کا شہر مکمل بند کرنا ظلم‘ قرار دیا تو اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ پہلے ہی عوام اور چھوٹے تاجر مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں سے بدحال ہیں‘۔

لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے افراد کا ذکر ہوا تو حکومت سے توقع کی گئی کہ وہ ایسے طبقات کا خیال رکھے گی۔ صارف اعظم زہری لکھتے ہیں کہ ’جب سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے تو دوران لاک ڈاؤن غربا اور نادار کی کفالت کا بھی حکم صادر فرمائے ورنہ غریب لوگ بھوک سے مرجائیں گے۔‘

وبائی صورت حال میں پابندیوں کے اعلان لیکن ان پر خاطر خواہ عمل نہ ہونے کے پہلو پر تبصرہ کرنے والے حکومتی اہلیت پر سوال اٹھاتے رہے۔
کاظم حسین نامی صارف نے سوال کیا کہ ’سندھ حکومت کابینہ سمیت کشمیر میں الیکشن مہم چلاتی رہی، اور اب سندھ میں لاک ڈاؤن لگا دیا۔ سوال یہ ہے آپ جب جلسے، جلوس اور ریلیاں کر رہے تھے تو وہاں کورونا نہیں تھا یا اس وقت کورونا اتنا اثرانداز نہیں تھا جتنا 8 اگست تک ہو گا؟‘

سندھ میں لاک ڈاؤن سے متعلق یہ بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں کورونا کیسز میں اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ نئے مریضوں کی شرح کے اعتبار سے سندھ کا دارالحکومت کراچی ملک میں وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں شامل ہے۔

کے ٹو پر لاپتا ہونے والے علی سدپارہ اور ساتھی کوہ پیما کے فون اور کیمرہ مل گیا

 

موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والے پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ نے اپنے والد کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے کے ٹو پر جانے کا اعلان کیا تھا۔

کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے نے بتایا تھا کہ ’تینوں کوہ پیماؤں کی لاشیں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے بوٹل نیک کے قریب سے ملی ہیں جن کو نیچے لانا مشکل کام تھا اور آرمی ایوی ایشن کی مدد سے لاشوں کو نیچے لایا گیا۔
اس مشن میں ان کے ساتھ جانے والے امریکی فلم ساز ایلیا سیکلی نے ٹوئٹر پر جان سنوری اور علی سدپارہ کے فون اور گو پرو کیمرہ مل جانے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’کے ٹو مشن کے دوران علی سدپارہ کا فون اور جان سنوری کا زیر استعمال کیمرہ (گو پرو) مل گیا ہے ساجد علی سدپارہ ان سے ملنے والی ویڈیوز اور مواد کی جانچ کریں گے۔‘
کیا ہمیں اس میں سمٹ مکمل کرنے کے حوالے سے کچھ مل پائے گا؟
ٹوئٹر صارفین کی جانب سے کوہ پیماؤں کی لاشوں کے بعد ان کے زیر استعمال آلات ملنے کے بعد خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے۔
ٹوئٹر صارف رخسانہ مظہر نے لکھا کہ ’کوئی شک نہیں کہ آپ کے حوصلے  کے ٹو پہاڑ سے بھی زیادہ بلند ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ کے تمام سوالات کے جوابات جلد ہی مل جائیں گے کیونکہ ہمت سے آگے بڑھنے والوں کا ساتھ قسمت بھی دیتی ہے۔‘

جہاں صارفین نے اس کامیابی پر ساجد علی سدپارہ اور ٹیم کو مبارک باد دی وہیں اکثر نے ’یہ آلات پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔‘
سکردہ کا علاقہ سدپارہ پاکستان میں بہترین ’پورٹرز‘ کے لیے جانا جاتا ہے لیکن علی سدپارہ نے کوہ پیمائی کو کیریئر بناتے ہوئے 2004 میں پہلی بار کے ٹو سر کرنے کی مہم میں بطور کوہ پیما حصہ لیا تھا۔

گھر کے باہر گاڑی پارک کرنے کا تنازع، تشدد سے خاتون ہلاک

 

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گھر کے باہر گاڑی پارک کرنے سے روکنے والی خاتون تشدد سے ہلاک ہوگئیں۔
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کی آبادی عرفات ٹاؤن میں پیش آنے والے واقعے میں ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت بانو زوجہ اسماعیل کے نام سے ہوئی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ’متوفیہ کے ورثا لاش کو بغیر پوسٹ مارٹم اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے بغیر وجہ موت کا تعین نہیں ہو سکتا۔‘
پولیس کے مطابق ’ہم نے ورثا کو پوسٹ مارٹم کا کہا مگر انہوں نے منع کر دیا، بغیر پوسٹ مارٹم کے مقدمہ درج کرانے میں مسائل ہوں گے۔‘
پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی کے مالک فرحان نے خاتون کے گھر کے باہر گاڑی پارک کی جس پر بانو زوجہ اسماعیل نے اعتراض کیا۔‘
’فرحان اپنے ساتھیوں شاہ زیب شہروز اور دیگر چار افراد کے ساتھ خاتون کے گھر پہنچے جہاں بانو زوجہ اسماعیل کو فرحان اور ان کے ساتھیوں نے دھکے دیے۔ اس تشدد کے نتیجے میں خاتوں زمین پر گر کر بے ہوش ہو گئیں۔‘
پولیس ذرائع کے مطابق ’خاتون کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ

 

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے جسمانی ریمانڈ میں چوتھی مرتبہ توسیع کرتے ہوئے مزید دو روزہ ریمانڈ کی منظوری دے دی ہے۔
پولیس نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم کے گھر کی 40 گھنٹے کی ویڈیو میں مزید کردار سامنے آئے ہیں جن کے حوالے سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔
سنیچر کو اسلام آباد میں کی ایک عدالت میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ ملزم ظاہر جعفر کو قدرے تاخیر سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ دو بج کر دس منٹ پر ملزم کو سخت سکیورٹی میں عدالت لایا گیا تو اس سے پہلے مقدمے کے مدعی اور مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم اپنے وکلا کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
ضلعی عدالتوں میں کمرہ عدالت نمبر 21 میں مجسٹریٹ محمد شعیب اختر کی آمد سے قبل ہی ملزم کو عدالت میں پہنچا دیا گیا تھا۔ چند لمحے انتطار کے بعد مجسٹریٹ آئے اور سماعت کا آغاز ہوا۔
پولیس کی جانب سے سرکاری وکیل ساجد چیمہ نے بتایا کہ ملزم کا پولی گراف ٹیسٹ اور ویڈیو کا فرانزک کروا لیا گیا۔ اس ویڈیو میں کچھ مزید کردار نظر آئے ہیں۔ ان کے حوالے سے تفتیش کے لیے ضروری ہے کہ ملزم پولیس ہی کی تحویل میں رہے اس لیے ریمانڈ میں مزید توسیع کی جائے۔

مجسٹریٹ نے فریقین کے مختصر دلائل سننے کے بعد دو روز کے لیے ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے سوموار دو اگست کو ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

ملزم کے وکیل ایڈووکیٹ انصر مرزا نے مزید ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کا پولی گراف ٹیسٹ بھی کرا لیا گیا ہے۔ ملزم سے ریکوری ہو چکی ہے۔ مزید جسمانی ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے؟
مدعی کے وکیل شاہ خاور نےمزید ریمانڈ دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے کچھ ایسی چیزیں اور مزید کردار سامنے آئے ہیں۔ چالیس گھنٹوں کی فوٹیج میں بہت سی نئی چیزیں سامنے آئی ہیں۔ پولیس کو ان سے متعلق تفتیش کرنے کے لیے ریمانڈ میں توسیع ہونی چاہیے۔
مجسٹریٹ نے فریقین کے مختصر دلائل سننے کے بعد دو روز کے لیے ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے سوموار دو اگست کو ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
ریمانڈ میں چوتھی مرتبہ توسیع کے بعد ملزم کا مجموعی ریمانڈ 12 روز کا ہو جائے گا۔
سماعت کے بعد تفتیشی ٹیم کے ایک رکن نے اردو نیوز کو بتایا کہ 40 گھنٹے کی فوٹیج میں گرفتار دو ملازمین کے علاوہ تیسرے ملازم کی موجودگی بھی پائی گئی ہے۔ اسے فی الحال گرفتار نہیں کیا گیا تاہم جب ضرورت محسوس ہوگی اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔
تفتیشی ٹیم کے رکن نے بتایا کہ ملزم کا لاہور میں پولی گراف ٹیسٹ اور ویڈیو کا فرانزک کروایا گیا ہے۔ 
انھوں نے بتایا کہ ابھی تک فرانزک ٹیسٹس کی رپورٹس نہیں آئیں ان میں کچھ وقت لگے گا تاہم ویڈیو اور ملزم کے ٹیلی فون کال لاگ کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
تفتیشی ٹیم کے رکن نےبتایا کہ ملزم کے ٹیلی فون کا چند روز کا جو ریکارڈ حاصل کیا ہے وہ دس صفحات پر مشتمل ہے۔ ملزم کے فون کالز کی روشنی میں بھی تفتیش کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور جب ٹرائل شروع ہوگا تو معلوم ہوگا کہ یہ تفتیش قدر محنت سے کی گئی ہے۔

یقین دلاتا ہوں نور مقدم کیس میں کوئی کتنا ہی بااثر ہو،سزا ضرور ملے گی

 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ نور مقدم کیس کو خود دیکھ رہے ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قاتل بچ نہیں سکے گا۔
اتوار کو سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب سے کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان خان نے نور مقدم کیس کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قاتل بچ نہیں سکے گا۔ چاہے قاتل دوہری شہریت ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔ ‘
وزیراعظم عمران خان خان نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ قاتل بڑے مضبوط خاندان سے ہے اور کہیں وہ بچ نہ جائے۔ میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ قاتل بچ نہیں پائے گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ امریکی شہری ہے تو وہ بچ جائے گا، ایسا نہیں ہو گا۔‘
نور مقدم کیس کے بارے میں مزید کہا کہ ’اس کی ایک ایک چیز کا مجھ کو پتا ہے۔ میں ایک ایک چیز کی تفصیل لی ہوئی ہے۔ یہ بڑا خوفناک قسم کا کیس ہے۔‘
ہم لاک ڈاؤن کر کے کسی بھی صورت اپنی معیشت کو تباہ نہیں کریں گے۔ لاک ڈاؤن کا مطلب لوگوں کو بھوکا رکھنا ہے۔
وزیراعظم عمران خان خان نے خطاب میں کورونا وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کورونا سے معیشت کو بچانے والا تیسرا ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیلٹا ویرینٹ سب سے خطرناک ہےاور یہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے جسمانی ریمانڈ میں سنیچر کو چوتھی مرتبہ توسیع کی گئی ہے

عمران خان نے شہریوں کو کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ بند جگہیں جہاں زیادہ لوگ ہوں وہاں ماسک پہنیں۔ایس او پیز میں ماسک پہننا سب سے آسان ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس وبا کا ایک ہی علاج ہے اور وہ ویکسینیشن ہے، بچوں اور ٹیچرز کو ویکسین لگوانے کے سکول بھی نہیں کھولنے چاہئیں۔‘

خواتین کو وراثت میں حق نہ دینا فوجداری جرم

 

بلوچستان ہائیکورٹ نے خواتین کو وراثت میں حق نہ دینے والوں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد کامران خان ملاخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعے کو خواتین کو حق  وراثت اور صوبے میں جاری سیٹلمنٹ کے عمل میں نظر انداز و محروم رکھنے سے متعلق ایڈوکیٹ محمد ساجد ترین کی جانب سے دائر پٹیشن پر فیصلہ سنایا۔

دو رکنی بینچ نے اپنے حکم میں کہا کہ ’خواتین کو وراثت سے محروم رکھنے یا زبردستی دستبردار کرانے پر ریونیو آفیسر فوجداری مقدمہ درج کرنے کا پابند ہوگا۔‘
عدالت کا کہنا تھا کہ ’وراثت پہلے تمام شیئر ہولڈرز بشمول خواتین کے نام منتقل کی جائے اس کے بعد انتقال کی کاروائی  کی جائے گی۔‘
’اگر کوئی بھی جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام  چھپا یا نکال کر منتقل کی گئی تو انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا اور سول دائرہ کار سے وابستہ عدالت کو اپروچ کیے بغیر ذمہ دار فرد کا یہ سارا عمل پلٹا دیا جائے۔‘
عدالتی حکم کے مطابق ’کسی خاتون کو شادی یا کسی بھی قسم کے تحفے اور رقم کی بنیاد پر جائیداد کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘
عدالت نے ڈی سی اور محکمہ ریونیو کو وراثت کی سیٹلمنٹ سے قبل علاقے میں اعلانات کروانے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں ڈی جی نادرا کو ریونیو دفاتر میں آن کال ڈیسک قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’نادرا کا ڈیسک محکمہ ریونیو کو مرحوم کا شجرہ نسب فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔‘
عدالت نے ممبر بورڈ آف ریونیو کو ڈی جی نادرا کے ساتھ شجرہ نسب کے بروقت اجرا کے لیے مل کر طریقہ کار طے کرنے کا بھی حکم دیا۔
عدالتی حکم کے مطابق تمام سول عدالتوں کو وراثت سے متعلق زیر التوا مقدمات تین ماہ کے اندر نمٹانے کہا گیا ہے۔

کراچی میں لاک ڈاؤن میں نرمی، ویکسینیسشن سینٹر میں بدنظمی

 

سندھ حکومت نے کہا ہے کہ کراچی میں نقل و حمل پر پابندی میں نرمی کرتے ہوئے شہریوں کو ویکسینیشن سنٹرز تک جانے کی سہولت دینے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو اجازت دی جا رہی ہے اور ڈبل سواری پر پابندی ختم کی جا رہی ہے۔
سنیچر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ’پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے نوٹیفیکیشن جاری کر رہے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ویکسین سنٹرز تک لا سکے۔ ڈبل سواری کی پابندی کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ریسٹورنٹس، بیکری اور دودھ کی دکانوں کو بھی اجازت دینے جا رہے ہیں۔‘
انہوں لاک ڈاؤن کے حوالے وفاقی وزرا کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ سندھ ٹاسک فورس نے ماہرین کے مشورے سے لاک ڈاؤن لگایا۔ بدقسمتی سے آج کہا جا رہا ہے کہ ہم سے مشاورت نہیں کی گئی۔ این سی او سی نے کہیں نے کہا کہ سندھ لاک ڈاؤن نہ لگائے۔‘

’سندھ حکومت پوری کوشش کرتی ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہے اور اسی حوالے سے فیصلے کیے جاتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے جو لوگ میڈیا میں آ کر بیان بازی کرتے ہیں وہ کورونا وائرس کے بارے میں ایک متحد بیانیہ پیش نہیں کرتے۔‘
مرتضی وہاب نے کہا کہ ’سیاسی میدان میں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی کی جنگ ہو سکتی ہے مگر انسانیت کے میدان میں ہمیں لوگوں کو اس موذی وبا سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جو لاگ نکتہ چیی کر رہے کہ میں ان کو کہنا چاہوں گا کہ بجائے اس کے لوگوں کو قائل کریں انتشار نہ پھیلائیں۔ جب لاہور میں لاک ڈاؤن لگایا تو پیپلز پارٹی نے یہ نہیں کہا تھا کہ لاک ڈاؤن غلط لگایا۔ یہ نہیں کہا تھا کہ لاک ڈاؤن لاہور کی معیشت کے خلاف ہے۔‘
ان کے مطابق ’سندھ ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ جو لوگ ویکسین نہیں لگائیں ان کی موبائل سم بند کر دی جائے۔ پچھلے چار دن میں پاکستان میں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘
’سندھ میں چوبیس گھنٹوں میں ایک لاکھ پچاسی ہزار لوگوں نے ویکسین لگوائی۔ لوگ بڑی تعداد میں ویکسین لگوا رہے ہیں اور ویکسین بھی مناسب مقدار میں موجود ہے۔ مزید ویکسینیشن سنٹرز بنا رہے ہیں۔‘
دوسری جانب کراچی میں ویکسینیشن سینٹر میں آنے والے لوگوں کا رش بڑھ گیا ہے، عوام گیٹ توڑ کر ویکسینیشن سینٹر میں داخل ہوگئے۔ دھکم پیل سے وہاں موجود سٹاف بھی معمولی زخمی ہوگیا ہے جبکہ سینٹر کی انتظامیہ صورت حال کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی۔ 
ترجمان سندھ حکومت کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کوئی ادارہ، دکان یا شادی ہال ایس او پیز کی خلاف کرے گا تو نو اگست کے بعد اسے ایک مہینے کے لیے سیل کیا جائے گا۔‘

غیرضروری طور پرگھروں سےنکالنے والوں کو بھی واپس کیا جا رہا ہے 

’لوگ صرف ویکسین لگوانے کے لیے گھر سے نکلیں۔ جن اداروں نے ملازمین کی سو فیصد تعداد کو ویکسین لگوا لی ہے انہیں کام کی اجازت ہو گی۔ اگر انتظامیہ کسی کے خلاف ناجائز کارروائی کرے تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔‘
سندھ حکومت کے ترجمان کی پریس کانفرنس کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’وفاقی حکومت نہ صنعتوں اور نہ ہی مکمل لاک ڈاؤن کے حق میں ہے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے پہلے بھی قابو پایا گیا تھا۔ سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جائے ہم ساتھ دینے کو تیار ہیں۔‘
دوسری طرف کراچی میں لاک ڈاؤن کے پہلا دن پولیس نے جگہ جگہ ناکے لگائے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ناکوں سے آگے جانے نہیں دیا جا رہا۔
پولیس اہلکار بسوں اور ویگنوں سے مسافروں کو اتار رہے ہیں۔ رکشوں اور ٹیکسیوں کو بھی ناکوں سے آگے نہیں جانے دیا جا رہا جبکہ غیرضروری طور پرگھروں سےنکالنے والوں کو بھی واپس کیا جا رہا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک معمول سےکم ہے اور مارکیٹیں اور دکانیں بھی بند ہیں۔
اس کے علاوہ بیشتر سرکاری دفاتر بھی بند ہیں  اور نجی دفاتر میں بھی حاضری معمول سے کم ہے۔

کورونا سے سانس لینے میں تکلیف، جسٹس فائز عیسیٰ گھر سے ہسپتال منتقل

 

کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سانس لینے میں تکلیف کے باعث گھر سے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ’انہیں سانس لینے میں تکلیف کے باعث سنیچر کو گھر سے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اس سے قبل جمعرات کے روز ان کے قریبی ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ ’فائز عیسیٰ کی طبیعت بدھ کے مقابلے میں مستحکم ہے۔‘

جمعرات کو سپریم کورٹ کے پینل پر موجود سرکاری ڈاکٹرز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا معائنہ بھی کیا تھا۔
خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کا سات روز قبل کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
24 جولائی کو سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج قومی ادارہ صحت نے جاری کیے ہیں۔‘
بدھ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سینے میں گھٹن کی شکایت ہوئی اور ان کی طبیعت ناساز ہونے پر ڈاکٹرز نے دو بار ان کا معائنہ کیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد گھر پر قرنطینہ کیے ہوئے ہیں۔
ان کے قریبی ذرائع کے مطابق ’سرکاری ڈاکٹر کے ساتھ اسلام آباد کے نجی ہسپتال شفا کے ایک ڈاکٹر بھی گھر پر جسٹس قاضی فائز اور ان کی اہلیہ کا معائنہ کرتے ہیں۔’

کورونا کی نئی لہر، شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کل: اسد عمر

 

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کی چوتھی لہر خطرناک ہے، شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے لیے سفارشات وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں کل پیش کریں گے۔ 
اسلام آباد میں اتوار کو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کی چوتھی لہر خطرناک ہے، ڈیلٹا ویرینٹ برطانوی ویرینٹ سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ مشترکہ حکمت عملی سے بندشیں لگاتے ہیں تاکہ لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔
’کل وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سفارشات پیش کریں گے جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ کس طرح شہروں میں اہداف مخصوص کر کے سمارٹ لاک ڈاؤن کریں۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ویکسینیشن کے لیے 200 ارب روپے لگا رہی ہے۔
اسد عمر کے مطابق ویکسین کی پہلی ایک کروڑ ڈوز کو 113 دن لگے تھے جبکہ اب تک تین کروڑ شہریوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ آخری ایک کروڑ ویکسین ڈوز لگانے میں صرف 16 دن لگے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس موقع پر کہا کہ گزشتہ ہفتے میں اوسطا روزانہ دو ڈھائی ہزار کے کیسز آئے جبکہ اب یہ پانچ ہزار تک پہنچی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں کورونا ویکسینیشن کے سرٹیفکیٹ کے بغیر اندرون ملک فضائی سفر پر پابندی کا نفاذ کر دیا گیا ہے اور سول ایوی ایشن حکام کے مطابق ملک کے تمام ایئر پورٹس پر مسافروں کے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ دیکھے جا رہے ہیں۔
سول ایوی ایشن کے مطابق اتوار کی صبح کراچی ایئرپورٹ پر کورونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر 8 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔ یہ مسافر کراچی سے اسلام آباد جانا چاہتے تھے۔
پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ایئرلائن کے عملے نے تمام پروازوں پر ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ کی چیکنگ، بورڈنگ کے عمل سے قبل شروع کر دی تھی۔ اس عمل سے متعلق پی آئی اے اپنے کال سینٹر اور اشتہارات کے ذریعے تمام مسافروں کو مطلع کررہا ہے۔‘

اتوار کی صبح کراچی ایئرپورٹ پر کورونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر 8 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)

خیال رہے کہ کورونا کی چوتھی لہر کے خطرے کے پیش نظر این سی او سی نے جمعے کو پاکستان کے تمام سیاحتی مقامات پر جانے والے 30 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر بغیر ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے سفر اور ہوٹل بکنگ پر عائد پابندی کو یقینی بنانے کے لیے احکامات جاری کیے تھے۔ 
این سی او سی کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس کے پانچ ہزار 26 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 62 افراد اس مہلک وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔
ادھر سندھ حکومت نے کراچی میں 10 بڑے کورونا ویکسین سینٹرز میں بلا تعطل ویکسینیشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق کراچی کے 10بڑے سینٹرز 24 گھنٹے ویکسینیشن جاری رکھیں گے۔ 
پارلیمانی سیکرٹری صحت نے بتایا کہ سندھ حکومت مزید سینٹرز کے لیے عملہ متعین کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز کراچی میں ویکسینیشن سینٹر میں آنے والے لوگوں کے رش کی وجہ سے عوام گیٹ توڑ کر ویکسینیشن سینٹر میں داخل ہوگئے تھے۔ دھکم پیل سے وہاں موجود سٹاف بھی معمولی زخمی ہوا جبکہ سینٹر کی انتظامیہ صورت حال کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی تھی۔